مطالعۂ ہند : ایک نئی تحریک

شاہ اجمل فاروق ندوی

2014 میں ہندستان کی حکومت ہندو قومیت پرست افراد کے ہاتھوں میں آگئی. حسبِ توقع تمام اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں اور پس ماندہ طبقات کے خلاف بدترین پالیسیاں اختیار کی جانے لگیں. ملک میں واقع ہونے والی اس منفی تبدیلی (Negative Change) کے نتیجے میں سماجی سطح پر بھی بہت سی تبدیلیاں واقع ہوئیں. یہ تبدیلیاں مثبت بھی تھیں اور منفی بھی. مسلم معاشرے میں بھی بڑی تبدیلیاں نظر آنے لگیں. ان ہی میں سے ایک تبدیلی یہ بھی نظر آئی کہ ہندستانی تاریخ و تہذیب اور ہندوتوا وادی نظریات کو غور فکر کا موضوع بنایا جانے لگا. سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہندستانی تاریخ و تہذیب کے مطالعے کے لیے ایسے خراب حالات کا ہونا ضروری تھا؟ کیا یہ قدم پرسکون حالات میں نہیں اٹھایا جاسکتا تھا؟

اس طرح کے سوالات کا جواب ہر دانش مند نفی میں دے گا. جب ہم اس جواب کو غور سے دیکھتے ہیں تو اس کے ساتھ ہمارے سامنے خود اپنی تاریخ بھی آجاتی ہے. ہم دیکھتے ہیں کہ پرانے ہندستان میں ہماری تاریخ ہندستانی اقوام سے لاتعلق ہوکر جینے کی نہیں رہی ہے. ہندستان میں اسلام کی ترویج و تبلیغ اسی لیے ممکن ہوئی کہ ہمارے بزرگوں نے ہندستان کو سمجھنے کی کوشش کی. یہاں کی تہذیب کا خیال رکھا. یہاں کے دبے کچلے طبقات کو سہارا دیا. یہاں کے باشندوں کے جذبات و احساسات کا خیال رکھا. مذہب کے نام پر صدیوں سے جاری مظالم کے خلاف آواز اٹھائی اور مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہوئے. ہمارے سامنے حضرت محمد ابن قاسم ثقفی شہید سے لے کر بہادر شاہ ظفر تک ایک طویل سلسلہ ہے. ان تمام حکم رانوں نے اپنے اپنے زمانے کے لحاظ سے ہندو رعایا کو سمجھ کر اُن کے دلوں کو جیتا. تاجروں، فاتحوں اور مجاہدوں کے بعد جب ایک تسلسل کے ساتھ صوفیائے کرام نے ہندستان کا رخ کرنا شروع کیا تو یہاں کی تقدیر ہی بدل گئی. ہر طرف اسلامی عقائد، عبادات اور اخلاقیات کا چرچا ہوگیا. اگر کسی دور میں کوئی مسلم حکم ران یا فاتح اپنی غلط پالیسیوں کی وجہ سے عوام کی تکلیف کا باعث بنا، تو بھی صوفیائے کرام کی من موہنی باتوں اور دل فریب کردار نے اسلام کی تبلیغ کا کام جاری رکھا. یہ ایک تاریخی سچائی (Historical Fact) ہے کہ محمد ابن قاسم ثقفی شہید کے ابتدائی عہد سے لے کر سلطان اورنگ زیب عالم گیر کے عہدِ عروج تک جو کام یابیاں حاصل کی گئیں وہ سب ہندستانی معاشرے اور ہندستانی اقوام کے مزاج اور فطرت کو سمجھنے کی وجہ سے ہی انجام دی گئیں. لیکن 1947 میں ملک کی تقسیم کے بعد عجیب و غریب صورت حال سامنے آئی.

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ منقسم ہندستان میں مسلم اہل علم ہندستانی تاریخ و تہذیب کے گہرے مطالعے کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کرتے. کیوں کہ اب اُنھیں حاکم کے بجائے محکوم اور غالب کے بجائے مغلوب بن کر ہندستان میں رہنا تھا. اب اُنھیں ایک ایسے معاشرے میں جینا تھا جہاں وہ ایک لٹی پٹی اقلیت میں تھے. ایسے میں انھیں اپنے وطنی برادران کے سیدھے اور الٹے دونوں دماغوں کو سمجھنا سب سے ضروری تھا. اگر وہ ہندستانی اقوام کو مدعو اقوام نہ سمجھ کر عدو اقوام سمجھنے کی غلطی کرتے، تب بھی اُن کے لیے ضروری تھا کہ وہ "مد مقابل" کو اچھی طرح سمجھیں. افسوس ! ایسا نہیں ہوسکا. ہم نے اپنے وطنی برادران کو مدعو تو سمجھا ہی نہیں، حقیقی عدو سمجھنے کی غلطی بھی نہیں کی. اگر دل سے یہ غلطی کرتے تو شاید انھیں سمجھنے اور جاننے کی کوشش کرتے. اس کا نتیجہ یہ ہے کہ دوریاں بڑھتی چلی گئیں. انگریز نواز فرقہ پرست طاقتیں دوری کو کھائی میں تبدیل کرتی رہیں. آج آزادی کے اسّی سال بعد بدگمانیاں، دوریاں اور دشمنیاں اس حد تک پہنچ چکی ہیں کہ انھیں دور کرنا ایک معرکہ سر کرنے جیسا ہوگیا ہے.

اس افسوس ناک صورت حال میں امید کی کچھ کرنیں بھی روشن ہونی شروع ہوئیں. یہ کرنیں کسی ایک جانب سے نہیں متعدد سمتوں سے پھوٹیں اور پھوٹ رہی ہیں. امید کی یہ کرنیں بہ ہر صورت لائقِ شکر ہیں.

جب ہم اس طرح کی اجتماعی کوششوں کا جائزہ لیتے ہیں تو اس سلسلے میں انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز، نئی دہلی سب سے آگے نظر آتا ہے. انسٹی ٹیوٹ کے بانی چیئرمین ڈاکٹر محمد منظور عالم کا اپنا انداز تھا. وہ معاملات کو بہت سوجھ بوجھ کے ساتھ دیکھنے کے عادی تھے. ہم چاہے اُن کے کسی اقدام سے اتفاق کریں یا اختلاف، اس بات سے انکار نہیں کرسکتے کہ وہ سخت سے سخت مسائل کو بھی جذباتیت سے حل کرنے کا مزاج نہیں رکھتے تھے. غور و فکر کرتے تھے، مشورے کرتے تھے، مناسب حکمت عملی طے کرتے تھے اور پھر اس کے مطابق آگے قدم بڑھاتے تھے. 2014 سے بہت پہلے انھوں نے مشہور ماہر سیاسیات اور منفرد انشا پرداز پروفیسر ظفر احمد نظامی سے "تاریخ ہند - عہدِ جدید" لکھوائی تھی. اس کے علاوہ حالات کا رخ بھانپتے ہوئے یونیورسل پیس فاؤنڈیشن کے ذریعے ایک طرف ہندو مسلم کو قریب کرنے کی کوشش کی تو دوسری طرف تاریخ کی سچائیاں بھی پیش کرنی شروع کیں. اس ذیل میں سوامی دھرم تیرتھ کی کتاب "ہندو سامراجیت کی تاریخ"، وی آر نارلا کی کتاب "گیتا حقیقت کے آئینے میں" اور پروفیسر محسن عثمانی ندوی کی کتاب "ہندو مذہب - مطالعہ اور جائزہ" شائع کیں. یہ کتابیں بہت مقبول ہوئیں اور ان کے کئی کئی ایڈیشن منظر عام پر آئے. پھر 2014 کے بعد ملک کے حالات بگڑنے شروع ہوئے تو بھی انسٹی ٹیوٹ نے کئی اہم اقدامات کیے. ان میں سے ایک اقدام ہندوتوا کے متعلق اردو زبان میں سلسلہ وار تحقیقی علمی مواد تیار کرنا تھا. اس کام کے لیے ڈاکٹر محمد منظور عالم نے ہندستانیات کے محقق عالم مولانا عبدالحمید نعمانی کو ساتھ لے کر کام کا منصوبہ بنایا. اس منصوبے کے تحت انسٹی ٹیوٹ سے مولانا نعمانی کی کئی تصانیف منظر عام پر آئیں اور ہاتھوں ہاتھ لی گئیں. ہندتوا: اہداف و مسائل، ہندوتوا اور راشٹرواد، ساورکر- فکر و تحریک، سنگھ کے بانی ڈاکٹر ہیڈگیوار- حیات و تحریک، جامع مسجد گیان واپی اور بنارس کی دیگر تاریخی مساجد جیسی مقبولِ عام کتابیں اسی منصوبے کا حصہ ہیں. یہ منصوبہ اب بھی جاری ہے.

اسی طرح علمی و تحقیقی بنیاد پر ہندستان اور ہندوتوا کو سمجھنے کا بڑا کام ملک کے موقر اشاعتی ادارے فاروس میڈیا نے بھی انجام دیا. اس ادارے کے سربراہ ڈاکٹر ظفر الاسلام خان عالمی پیمانے پر علم و تحقیق کے میدان میں بہت محترم شخصیت کے مالک ہیں. انھوں نے اپنے پندرہ روزہ انگریزی مجلّے The Milli Gazette کے ذریعے تقریباً ڈیڑھ دہائی تک ملت کے مسائل کو بہت مؤثر انداز میں دنیا کے سامنے پیش کیا. پھر فاروس میڈیا کے ذریعے ہندستان، ہندستانی مسلمان اور ہندوتوا کو موضوع بناکر دو درجن سے زائد کتابیں تیار کرائیں اور انھیں مختلف زبانوں میں دنیا کے سامنے پیش کیا. اس ذیل میں گوڈسے کی اولاد، از: سبھاش گتاڑے، کرکرے کے قاتل کون؟ از: ایس ایم مشرِف، بھگوا دہشت گردی اور مسلمان، از: اعظم شہاب، آر ایس ایس کو پہچانیں، از: ڈاکٹر شمس الاسلام، آپریشن اکشردھام، از: راجیو یادو، عشرت جہاں انکاؤنٹر، از: عبدالواحد شیخ، گورکھپور اسپتال سانحہ، از: ڈاکٹر کفیل خان خصوصیت کے ساتھ قابلِ ذکر ہیں. ان کے علاوہ حال ہی میں کانوڑ یاترا اور ہجومی تشدد کے متعلق خود ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کی دستاویزی کتابیں The Kanwar Yatra 2025—Victimisation of Muslims by weaponizing a festival اور Mob Lynching In India (A Record — 2014-2024) اس سلسلے کی اہم کڑی ہیں. فاروس میڈیا نے ایک اہم کام یہ بھی کیا ہے کہ مشہور مؤرخ پروفیسر رام پُنیانی کی کئی کتابوں کو بھی اردو زبان میں شائع کیا ہے.

فقیہ العصر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کے ادارے المعهد العالي الإسلامي، حیدرآباد نے اس موضوع پر اہم پہل کرتے ہوئے بہت بڑے پیمانے پر سہ روزہ سمینار کا انعقاد کیا. یہ سمینار 21-25 نومبر 2025 کو حیدرآباد میں منعقد ہوا. سمینار کا مرکزی موضوع تھا: "بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ". اس مرکزی عنوان کے تحت انسانی زندگی کے تقریباً ہر پہلو پر علمی مقالات پیش کیے گئے. اہم بات یہ تھی کہ کئی ہزار صفحات پر مشتمل علمی مقالات کے اردو، انگریزی اور تلگو مجموعوں کا اجرا سمینار کے اختتامی اجلاس میں ہی میں کر دیا گیا. دوسری زبانوں میں ترجمے کا کام جاری ہے.

اس کے بعد جماعت اسلامی ہند کے دہلی حلقے کی طرف سے جماعت اسلامی کے مرکز میں ہندستانی تاریخ پر ایک نمائش کا اہتمام کیا گیا. اس نمائش کو بہت مقبولیت حاصل ہوئی. بڑی تعداد میں لوگوں نے اس نمائش سے استفادہ کیا. حال ہی میں جماعت اسلامی سے فکری طور پر وابستہ ادارے ادارہ تحقیق و تصنیف اسلامی، علی گڑھ کی جانب سے علی گڑھ میں دو روزہ سمینار کا انعقاد کیا گیا. اس کا مرکزی موضوع تھا: "علوم و فنون اور تہذیبی ارتقا میں ہندستانی مسلمانوں کا کردار". امید ہے کہ اس سمینار کے مقالات بھی جلد شائع ہوں گے.

مطالعۂ ہند کے حوالے سے ہونے والی یہ تمام کوششیں لائقِ تحسین ہیں. ہر شخص اور ہر ادارے کا اپنا مزاج ہوتا ہے. اسی کے تحت وہ کام کرتا ہے. اس لیے ان میں سے کسی کام کو اچھا یا برا کہنا نامناسب ہوگا. ایسا بھی نہیں ہے کہ مذکورہ کوششوں کے علاوہ کوئی اور کوشش نہیں ہوئی ہوگی. ہم نے زمانی ترتیب کے ساتھ صرف اُن کوششوں کا تذکرہ کیا ہے جن سے ہمیں واقفیت ہوسکی ہے. اصل یہ ہے کہ اس اہم میدان میں خدمات کا سلسلہ جاری ہے. اسے جاری رہنا بھی چاہیے. مسلمانوں کے تمام اہم اداروں، تنظیموں اور جماعتوں کو اس سلسلے میں اپنا اپنا کردار ادا کرنا چاہیے. ہم عام لوگوں کی ذمے داری ہے کہ ان کوششوں سے واقفیت حاصل کریں. ان سے استفادہ کریں. ان کا تعارف کرائیں. دوسروں کو بھی ان سے متعارف و مستفید کرنے کی کوشش کرتے رہیں.

(مضمون نگار آل انڈیا ملی کونسل کے اسسٹنٹ جنرل سیکرٹری ہیں)